Posts

Showing posts from March, 2024

Dr saira

Image
                  Dr saira اگر آپ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو نیچے لنک بٹن کو دبائے  مجھے اچھا لگتا ہے اگر لکھاری بلحاظ کر دار اپنے لفظوں کے وزن پر پورا اترے۔ اس سے بھی اچھا لگتا ہے جب کوئی لڑکی خواب بنتی ہے، آنکھوں میں پروتی ہے ، ان کے ساتھ جیتی ہے۔ لیکن ان کے پورا نہ ہونے سے ڈرتی نہیں۔ اور یہ بات بھی میرے لئے میرے قلم کی غذا جیسی ہے کہ ایسی سب لڑکیاں ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے قلم کی آبرو کا سودا نہیں کرتیں۔ شاید میرے جیسی ۔ میں بچپن میں چاکلیٹ کو ایسے دیکھا کرتا تھا کہ شاید میں یہ بھی خرید نہیں پاؤں گا۔ پھر میں نے ایک طرح ایجاد کی اور خوابوں کو تعبیر تک پہنچانے کا انوکھا ہنر سیکھ لیا۔ میں سوچتا تھا میں نے چاکلیٹ خرید لی ۔ کھالی   ۔ اور Wrapper نکال کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ پڑھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔ جو میں نے سائرہ سے مل کر اس کے بارے میں جانا تھا۔ اس نے مستم لکھ کر میں سائرہ سے شاید دو بار ملا ہوں اور دونوں ہی بار لگا کہ ایسی ہے ہماری سائرہ اقبال۔ بس اتنی سی اوقات ہے خوابوں کی۔ پورے ہو جا ئیں تو بے توقیر ہو جاتے ہیں۔ یہی میں ...

عجیب ترین چوری کا واقعہ

 عجیب ترین چوری کا واقعہ...  ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔  Hashmi07 سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔ Hashmi07 اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔  سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔  شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔ Hashmi07 سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی د...

Dr saira

Image
                  Dr saira اگر آپ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں تو نیچے لنک بٹن کو دبائے  مجھے اچھا لگتا ہے اگر لکھاری بلحاظ کر دار اپنے لفظوں کے وزن پر پورا اترے۔ اس سے بھی اچھا لگتا ہے جب کوئی لڑکی خواب بنتی ہے، آنکھوں میں پروتی ہے ، ان کے ساتھ جیتی ہے۔ لیکن ان کے پورا نہ ہونے سے ڈرتی نہیں۔ اور یہ بات بھی میرے لئے میرے قلم کی غذا جیسی ہے کہ ایسی سب لڑکیاں ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے قلم کی آبرو کا سودا نہیں کرتیں۔ شاید میرے جیسی ۔ میں بچپن میں چاکلیٹ کو ایسے دیکھا کرتا تھا کہ شاید میں یہ بھی خرید نہیں پاؤں گا۔ پھر میں نے ایک طرح ایجاد کی اور خوابوں کو تعبیر تک پہنچانے کا انوکھا ہنر سیکھ لیا۔ میں سوچتا تھا میں نے چاکلیٹ خرید لی ۔ کھالی   ۔ اور Wrapper نکال کر ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ پڑھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔ جو میں نے سائرہ سے مل کر اس کے بارے میں جانا تھا۔ اس نے مستم لکھ کر میں سائرہ سے شاید دو بار ملا ہوں اور دونوں ہی بار لگا کہ ایسی ہے ہماری سائرہ اقبال۔ بس اتنی سی اوقات ہے خوابوں کی۔ پورے ہو جا ئیں تو بے توقیر ہو جاتے ہیں۔ یہی میں ...